20 مئی 2021 - 14:14
آٹھ شوال یوم انہدام جنت البقیع کے حوالے سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا بیان

تکفیری فرقے وہابیت کے ذریعے آٹھ شوال کو جنت البقیع میں ائمہ طاہرین (ع) کی قبروں پر پائے جانے والے مزارات کو مسمار کیے جانے کے موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری فرقے وہابیت کے ذریعے آٹھ شوال کو جنت البقیع میں ائمہ طاہرین (ع) کی قبروں پر پائے جانے والے مزارات کو مسمار کیے جانے کے موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی انوار الہی، رہبران معصوم، ائمہ طاہرین علیہم السلام کی قبور کو مسمار کئے جانے کے موقع پر تمام محبان اہل بیت(ع) اور پیروان قرآن و عترت کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہوئے افغانستان میں ہوئی حالیہ جارحیت کی مذمت کرتی ہے نیز یمن سمیت فلسطین میں غاصب صہیونی ریاست کے ذریعے جاری بے انتہا ظلم و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سب کو دعوت دیتی ہے کہ بصیرت اور استقامت کے ساتھ ان ظلمانی افکار و جرائم کا مقابلہ کریں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے۔

بسم الله قاصم الجبارین و مبیر الظالمین
جنت البقیع میں پائے جانے والے ائمہ طاہرین علیہم السلام کی قبور مطہر کی مسماری ان جاہلانہ اقدامات کا ایک نمونہ ہے جو عقلانیت سے دور وہابی افکار کے مالک ٹولے نے آٹھ شوال 1344ق کو انجام دیا۔ اور جنت البقیع میں مدفون ائمہ طاہرین کے مقدس مقامات پر موجود روضوں کو ویران کر کے خاک میں ملا دیا۔
جاہلیت اور نادانی سب سے بڑا درد اور انتہائی تکلیف دہ چیز ہے کہ دین اسلام نے اپنی نورانیت سے اس تاریکی کو مٹانے کی کوشش کی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پوری تاریخ میں خود غرض فرقوں نے اسلام کے نور سے خود کو منور کرنے کے بجائے اس کے نور کو بھجانے کی کوشش کی اور خود بھی تاریکی میں پڑے رہے اور دوسروں کو بھی تاریکی میں رکھنے کی کوشش کی۔
اگر آج وہابی، تکفیری اور داعشی گمراہ کن فرقہ گھٹنوں تک کئی ممالک خصوصا افغانستان کے بے دفاع اور مظلوم بچوں کے خون سے لت پت ہے جس نے سید الشہدا مدرسے میں خودکش حملہ کر کے اپنی جاہلیت کا مظاہرہ کیا، اور اگر کچھ لوگ اپنے اسلاف سے غافل ہو کر یمن کے بے دفاع لوگوں کے خلاف جرائم کرتے ہیں، مقدس مقامات کی بے حرمتی کرتے ہیں، شام و عراق میں مقدس مقامات کو مسمار کرتے ہیں مساجد کو منہدم کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو جہالت کی تاریکی کے سب سے نیچلے درجے میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
یہاں پر انسانیت کی عقل سلیم یہ پوچھنا چاہتی ہے کہ یہ اسلام کے دعویدار اور حرمین شریفین کے جھوٹے خادمین کیوں مسلمان ہوتے ہوئے آج اطفال کش اور غاصب حکومت کے مسجد الاقصیٰ اور غزہ میں جاری حملوں کے مقابلے میں اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور اس جارحیت پر اپنی خاموشی کے ذریعے رضامندی کا اظہار کرتے ہیں؟! مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کریم میں مسجد الاقصیٰ کو مسجد الحرام کے برابر قرار دیا گیا ہے؟ (اسراء / 1)
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی انوار الہی، رہبران معصوم ائمہ طاہرین علیہم السلام کی قبور کو مسمار کئے جانے کے موقع پر تمام محبان اہل بیت(ع) اور پیروان قرآن و عترت کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہوئے افغانستان میں ہوئی حالیہ جارحیت کی مذمت کرتی ہے نیز یمن سمیت فلسطین میں غاصب صہیونی ریاست کے ذریعے جاری بے انتہا ظلم و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سب کو دعوت دیتی ہے کہ بصیرت اور استقامت کے ساتھ ان ظلمانی افکار کا مقابلہ کریں۔
ہمیں یقین ہے کہ قرآن کریم اور اہل بیت اطہار (ع) کی نورانی تعلیمات اور روشن افکار کے ذریعے ایک دن اس جہالت، درندگی اور غیر انسانی اقدامات کا خاتمہ ہو گا۔
يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (صف/8)

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی

شوال 1442 ھ / مئی 2021 ء